Friday, December 13, 2019

Our Present & Atmospheres Of The Past

ہمارا آج اور ماضی کی فضائیں!!!!


تحریر.......رضاعلی سنجرانی            
razasanjrani@hotmail.com


آج ہر کوئی اس بات پر متفق ہے کہ کوئی بھی چیز جو اس کائنات میں فزیکلی یا تصوراتی موجود ہے اس کی کوئی نہ کوئی ابتدا ہوتی ہے پھر اس کے بعد ابتدائی مرحلات سے متعلقہ یے عمل چلتا رہتا ہے- جیسے کہ فزیکلی میں اگر اِس اتنی وسیع کائنات کے بارے میں کچھ کہوں تو اِس اتنی وسیع کائنات کی کوئی ابتدا ہوگی کوئی ایسا رد عمل ہوگا جہاں سے اس کائنات نے جنم لیا ہوگا اور پھر اس کے بعد کئے دوسری چیزوں کی ابتدا ہوئی ہوگی انہوں کا جنم ہوا ہوگا یعنی کہ ہر چیز کے اُبھرنے میں اُس کے پیچھے کوئی نہ کوئی فلسفہ سمایا ہوتا ہے- جیسے اشرف المخلوقات! کے پوشاک میں باندھے ہوئے انسان نے بھی آنکھیں کھولی اور کسی پہلے انسان! کا جنم اب موجودہ وقت میں تو زمانِ ماضی کا افسانا بن گیا ہے مگر اس سے متعلقہ یے پروسیس چلتا آ رہا ہے، "آج"  کا موجودہ انسان اپنے ہم مادہ کی پیش کی ہوئی تصویر سے پہچانا جاتا ہے یعنی کہ "کیا آج پیدا ہونے والے انسان کی تصویر اس مادہ سے مشھابت کرتی ہے جس کے جنم کے بعد اس پر لفظ انسان کا لباداہ لپیٹا گیا" یعنی کہ اس فلسفے کو سمجھنے کے لیے کہ موجودہ وقت میں ہونے والے واقعات کے بارے میں تاریخ کیا کہتی ہے اور یے موجودہ وقت میں اک المیہ بن چکا ہے - میں اگر جھوٹ، بداخلاقی، لاشعوری اور ناانصافی وغیرہ ان  فیچرس کی بات کروں جو آج سوسائٹی میں عام ہیں مگر جن کو موجودہ صورتحال کے مطابق مختلف اینگل سے دیکھا جاتا ہے، یے فزیکلے دیکھنے والے فیچرس نہیں ہیں بلکہ یے وہ تصوارتی فیچرس ہیں "جن کی عروجیت ھیومنزم کی زوالیت ہے جن کا عروج پر پہنچ جانا معاشرے میں انسانیت پرستی ، مساویت اور انصاف کی موت ہے" اب کیا یے سارے فیچَرس آج کے دور کی پیداوار ہیں جو اب اس سوسائٹی میں تقریباً عام طور پر دیکھنے میں آ رہے ہیں؟ اس لیے انہوں کے "آج" کو پہنچاننے کے لیے گذرے ہوئے وقت کو جھانکنا پڑیگا تاریخ کی پسمنظرائی پر اینالائیسز کرنا پڑیگا کہ اِن کی ابتدا کب ہوئی اِن فیچرس نے کب جنم لیا؟  یے آج کی پیداوار نہیں ہے انہوں کی بھی کوئی ابتدا ہے اِن فیچرس نے بھی کسی دور میں آنکھیں کھولی ہيں، یے فیچرس جو موجودہ معاشرے میں عام ہیں ان کا مفھوم کچھ اور اینگل سے دیکھا جاتا ہے یعنی کہ وقت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ چیزیں جنم لیتی ہیں وہ ماحول کے تابع ہوتی ہیں یعنی ہر چیز کی ابتدا ماحول سے رئلیٹیڈ ہوتی ہے- جب میں اچھے فیچرس کی بات کروں تو ان کی بھی کوئی شروعات ہوگی انہوں نے بھی کسی دور میں جنم لیا ہوگا کہنے کا مقصد یے کہ ہر چیز کی کوئی نہ کوئی ابتدا ہوتی ہے- جب کہ میں کسی من گھڑت رسم کی بات کروں "جس کے تسلسل کو برقرار رکھنا آج کے اس معاشرے میں اک عظیم فرض بن چکا ہے" جس کو نبھانے میں آج کی سوسائٹی نے کوئی کمی نہیں چھوڑی جیسا کہ آج سے کئے صدیاں پہلے کوئی رسم بیان ہوئی اور اس کو آج کے دؤر میں بھی ادا کرتے آ رہے ہیں یعنی اس کی ابتدا موجودہ وقت کی نقطہ نگاھ سے تو ماضی کا ورق بن گئی یعنی اک چیز متعارف ہو گئی مگر اب "موجودہ وقت میں اُس چیز کی ادائیگی اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ کل کی کی ہوئی بات ہمارے یہاں آج کی صورت میں پیش کی جا رہی ہے"-  یعنی ہر چیز کی کوئی نہ کوئی تاریخ ہوتی ہے اور آج ہر کام تاریخ کی پسمنظرائی میں کیا جاتا ہے کہ گذرے ہوئے وقت کے مطابق ہمارا "آج" کس تصویر کے مانند پیش کیا جائے صرف ان سوالات کی پَسگردائی میں ڈوب کر کہ ہمیں یے خیالات آتے ہیں کہ ہمارا آج کا فعل تاریخ کے ورقوں پر کیا اثر کریگا! کیا ہم ہمارے ماضی اور حاضر کے بیچ میں زنجیروں کی کڑیوں کو اپنے آج کے فعل مطابق توڑدینگے یا اِس تسلسل کو برقرار رکھینگے؟ یے سوالات اِس معاشرے میں بہت ہی وسیع مفھوم رکھتے ہیں جس کی مختلف وضاحتیں ہیں اور یے ساری وضاحتیں سوسائٹی کے تابع ہوتی ہیں کہ معاشرے میں اک نئی صبح کو جنم دینے کے لیے اس میں کتنی صلاحیتیں موجود ہے- کیا سوسائٹی بلکل ماضی کے تصوارت سے آزاد دن کو جنم دے سکتی ہے یا گذرے ہوئے کل کے کئے ہوئے فعل پر تبصرے کر کہ اک دن کو آغاز کر سکتی ہے جو ظاھرے تو نیا ہوتا ہے بلکہ اس کی اندر ماضی کے قصے دفن ہوتے ہیں. مگر اب اس دور میں ہم اپنے "آج" کو ماضی کے زیورات سے سنوارتے ہیں ماضی کے لباس پہنا کر اُس کو دلہن کے مانند پیش کرتے ہیں اور ابھرنے والے سورج میں بھی کوئے نئی چمک نہیں ہوتی یعنی ہم نے اپنے آج کے ہر فعل کو سرانجام دینے میں تاریخ یا ماضی کا مکمل کا سہارا لیا ہے اور اس کی نقطہ نظر مطابق اپنے وقت پر ماضی اور حاضر کے مکسچر کا لباداہ لپیٹا ہے- کیا "آج" کو پیش کرنے کے لیے ماضی کو جھانکنا ضروری ہے؟ یے بات اس نقطہ نگاھ مطابق کس قدر میسو ہے کہ ہم ماضی کو مدنظر رکھ کر اپنی ارتقا کے مرحلے پار کرتے ہیں کہ ہم گذرے ہوئے لماحات پر کس اسٹیپ پر کھڑے تھے اور آج ہم میں کتنی ڈِولپمینٹ آئی ہے اور "آج" کے سورج کی کرنوں میں ماضی کے ان لمحات پر افسوس کرنے کہ بجاءِ انہوں کو ان کرنوں میں سے کاٹ دیں تو باقی بچے کرنوں کی توانائی سے معاشرے کے درختوں کی اونچ اور فضاؤں سے استفادہ ہوں تو یے عمل کس قدر ماضی کے ورقوں پر اینالائیسز کرنے کے لیے بہتر ثابت ہوتا ہے- اور دوسرا یے کہ ہم مکمل طور پر اپنے آپ کو ماضی کے سمندر میں دفن کر دیں یعنے ہمارے "آج" کے ابھرنے والے سورج کی کرنوں میں مکمل ماضی کی تصویر نظر آئے کہ "جیسا ہمارا ماضی ویسا ہمارا حاضر" اور معاشری میں تبدیلی لانے والی فضائیں ریسٹ میں ہوں، "اگرچہ ہم ماضی میں غلام تھے تو ہمارے آج میں بھی وہ ئی غلامی رقص کرے" یعنی کہ ہم مکمل طور پر اپنے آپ کو ماضی کی زنجیروں سے باندھ دیں اس کے دائرے سے کبھی بھی نکل نہ سکیں اور نکلنی کی کوشش تک بھی نہ کریں یے نظریہ جو موجودہ سوسائٹی میں اپنی عروجیت پر ہے اور "آج" ہمارے اس معاشرے میں ابھی تک کسی نئے سورج نے جنم نہیں دیا اور نہ ئی فضائیں معاشرے کی غلیظ ریت سے آزاد ہو کر  رقص کر رہی ہیں ہمارے اوپر آج بھی گذرے ہوئے وقت کا لباداہ لپیٹا ہوا ہے ہم وقتِ حاضر میں زندگی کے لمحوں کو گذرے ہوئے وقت پر افسوس کا اظھار کرنے میں گذار رہے ہیں مگر ہم معاشرے میں اک نئی صبح کا آغاز کرنے کے لیے دائرہ جدوجہد سے بہت دور ہیں- جب کہ موجودہ اس  سوسائٹی کی تصویر کے مطابق ہمارے "آج" کا آغاز ماضی کے کوششوں سے ہوتا ہے اور یے پروسیس اب بھی جاری ہے کیونکہ ہم اب اس اسٹیپ پر نہیں پہنچے کہ اک نئے داستان کو جنم دے سکیں جس پر ماضی کے اچھے فعل کا سایہ ضرور ہو مگر مکمل طور پر ماضی کے لباس سے اندھیرے کا سماں نہ ہو!!

No comments:

Post a Comment

ڪربلا بشريات لاءِ برابري ۽ رواداري جو دڳ آھي

  ڪربلا بشريات لاءِ برابري ۽ رواداري جو دڳ آھي... تحرير...... رضاعلي سنجراڻي  امام حسين عليه السلام جنھن زمين تي خيما کوڙي شھادت پذير ٿيا ا...